چونیاں کیس:سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کی کیس جلد حل کرنے پر حکومت پنجاب کے بروقت اقدامات کی تعریف

News Date: 
Saturday, October 26, 2019

لاہور26اکتوبر:سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے چونیاں میں زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کرنے کا کیس حل کرنے پر حکومت پنجاب کے بروقت اقدامات کی تعریف کی ہے اوراس ضمن میں سٹینڈنگ کمیٹی سینیٹ برائے داخلہ کی جانب سے پنجاب حکومت کو تعریفی مراسلہ بھجوایا گیاہے۔ تعریفی مراسلے میں چونیاں میں بچوں کے قتل کے کیس کا جلد سراغ لگانے پر پنجاب پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت کو بھی سراہا گیا ہے جبکہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور محکمہ داخلہ پنجاب کی سائنسی بنیادوں پر کیس کے حل کے لئے کاوشوں کو بھی قابل ستائش قراردیا گیاہے او رکہاگیاہے کہ فرانزک سائنس ایجنسی نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ملزم کا سراغ لگایا او رپولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا-پنجاب حکومت کی طرف سے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے24کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کے اقدام کی ستائش کی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کیس کو حل کرنے میں مدد ملی۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں صوبائی کابینہ کمیٹی برائے امن وامان کی کارکردگی کی بھی ستائش کی گئی ہے-سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کی طرف سے 5 پولیس افسروں اور اہلکاروں آر پی او ڈاکٹر تاجک سہیل، ڈی پی او زاہد نواز مروت، ایس پی قدوس بیگ، سب انسپکٹر محمد جبار اور کانسٹیبل حاکم علی کو میڈل اور انعام دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور داخلہ کی جانب سے کانسٹیبل حاکم علی کی ترقی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مراسلے میں کہا گیاہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کو ضابطہ فوجداری میں ابتدائی شہادت کے طور پر شامل کیا جائے اور علاقے کے تعلیمی اداروں میں قتل اور زیادتی کے واقعات کی وجوہات جاننے کیلئے سروے کیا جائے۔چیئرمین سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمن ملک کی طرف سے چونیاں میں 4 بچو ں کے اغواء اور قتل کے از خود نوٹس لیا گیا تھا۔