بزدار حکومت کے شفافیت اورگڈ گورننس کیلئے تاریخ ساز اقدامات، عوا م کو انکی دہلیز پر ریونیو سروسز کیلئے850 دیہی مراکز مال قائم

News Date: 
Monday, September 13, 2021

لاہور13ستمبر:بزدار حکومت کے بورڈ آف ریونیو میں شفافیت اورگڈ گورننس کے لئے تاریخ ساز اقدامات۔وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے کہا کہ سب رجسٹراردفاتر اور ای خدمت مراکز پر ون ونڈو رجسٹریشن اورانتقال جائیداد سروسز فراہم کی جارہی ہیں۔تمام اضلاع کی جامع معلومات مرتب کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ گزیٹیئرز شائع کیے جا رہے ہیں۔بورڈ آف ریونیومیں خدمات کی شفاف اورفوری فراہمی کے وژن پر عمل پیرا ہیں۔عوامی شکایات اورمسائل کا فوری ازالے کیلئے ہرماہ تحصیل و ضلع کی سطح پر ریونیو عوامی خدمت کچہریاں کاانعقاد کیاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ عوا م کو ان کی دہلیز پر ریونیو سروسز کیلئے850 دیہی مراکز مال قائم کیے گئے ہیں۔رواں مالی سال میں پنجاب بھر میں دیہی مراکزمال کی تعداد 8ہزار تک بڑھائی جائے گی۔زرعی اجناس کی پیداوار کا درست تعین کرنے کیلئے ڈیجیٹل گرداوری شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوردراز علاقوں کے مکینوں کو ریونیو سروسز کیلئے موبائل سینٹرز قائم کیے ہیں۔ریونیو کورٹ کیس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے انصاف کی بلاتاخیر فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔دیہات میں اہم واقعات کی رپورٹنگ اور شماریاتی ڈیٹا مرتب کرنے کیلئے ڈیجیٹلائزیشن کررہے ہیں۔ریونیو ریکارڈ کی 100فیصد ڈیجیٹلائزیشن کا ہدف حاصل کرکے عوام کو سہولتیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں قبضہ مافیاء سے462ارب روپے مالیت کی ایک لاکھ80 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔پنجاب کے شہروں میں قبضہ مافیاء سے 4056ایکڑاراضی واگزار کرائی۔دیہات میں ایک لاکھ 76ہزار ایکڑ سے زائد اراضی واگزار کرائی۔سرکاری اراضی کو واگزار کرا کے ریاست کی رٹ کا نفاذ یقینی بنایاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، جی پی ایس اورسیٹلائٹ کے ذریعے بندوبست اوراشتمال اراضی کاکام جارہی ہے۔قبضہ مافیاء کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری ہے۔قبضہ مافیاء کے ناسور کے خاتمے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر گزشتہ مالی سال میں بورڈ آف ریونیوکے ٹیکس محاصل میں اضافہ ہوا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں بورڈ آف ریونیو کے لئے 59.8ارب روپے ہدف مقررکیا گیا جبکہ بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ مالی سال62ارب روپے سے ز ائد کے محصولات حاصل کیے۔سافٹ ویئر کے ذریعے بلوں کے اجراء پر کام کیا جا رہاہے۔